Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
2 - 157
الجواب :

 کامل النصاب چودھری صاحب زیدت محالیہ و بورکت ایام ولیالیہ۔ بعد اہدائے ہدیہ سنت ملتمس، نوازشنامہ اسی وقت تشریف لایا ، بکمال اختصار جواب حاضر۔ جو کچھ حضرت معترض کے خلاف گزارش کروں گا اس پر نمبر حرفی ہوں گے۔ ا ب ح ء اور خلاف  جناب معروض ہوگا اس پر نمبر عددی ۱۔۲۔۳۔۴ اور مشترک پر مشترک۔



(اعتراض اول ) (ا) بے محل ہے اور جواب کافی 

( ب) یہی زیر اعتراض لینے تھے تو اسم تاریخی الموسوم بہ کیوں ترک ہوا کون سی ترکیب سے موسوم باسم تاریخی چاہیے تھا۔(ح) الموسوم بہ (ء) المعروف بہ یہ کائِتھاُنَہ (عہ) الف لام ہیں عند الپرتال معلوم بھیو ان کی بھی تغییر چاہیے تھی۔(ھ) (۱) ہاں کنزالاخرۃ کے نام ہونے پر ایک باریک مواخذہ برمحل ہوتا تائے مدورہ شکلاً ہا ہے اور لفظاً وقف میں ہا اور وصل میں تا اوّلاً عام اعتبار کتابت کا ہے اور تلفظ بھی لیجئے تو محل محلِ وقف ہے اور الف لام سے ترکیب ترکیب عربی، تو بہرحال ۵ ہی عدد ہوئی نہ ۴۰۰ ہاں منطق عوام پر کنزالاخرت پڑھے تو باعتبار تلفظ تاریخ صحیح ہوسکتی ہے مگر ایک علمی تصنیف، اس سے محفوظ رہنا اولٰی۔
عہ:  مطلب یہ ہے کہ الموسوم اور المعروف پر جوالف لام ہے، یہ کایستھ لوگ بولتے اور کاغذات پٹواری میں لکھتے ہیں لاعِندُ الپرتال معلوم بھیو  یعنی جانچ پرتال سے معلوم ہوا، اس جملے میں ان لوگوں نے ایک خرابی تو یہ کی عند کو عندُ کہا اور دوسری یہ کہ الف لام داخل کیا۔۱۲ عبدالمنان اعظمی۔
 (اعتراض دوم) (۲) میں اور ہاں کا قافیہ معیوب ضرور ہے۔(۳) عالمے ظالمے پر قیاس صحیح نہیں کہ رَوِی جب متحرک ہو تو قبل کی حرکت میں اختلاف باجماع جائز و بے عیب ہے جیسے دلش و گلشن بخلاف اختلافِ دل کہ روی ساکن ہے جیسے یہاں (۴) کہن بفتح ہا و بضمتین دونوں طرح ہے جس کی سندیہی اشعار اور ان کی امثال بے شمار ہیں۔ حضرت مولوی قدس سرہ ؎
نفس فرعونے ست ہاں سیرمش مکن 	تانیا رد یادزاں کفر کہن ۱؂
 ( نفس فرعون ہے خبردار اس کو سیر مت کر، تاکہ وہ پرانے کفر کی یاد نہ لائے۔ت)
 (۱؂     مثنوی معنوی         دفتر چہارم         مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور             ۲/ ۳۴۲)
اکابر نے اس کثرت سے کن کا قافیہ من یابزن یا حسن وغیرہا بھی کبھی باندھا (۵)  جاری بکن غلطی کا تب ہے صحیح خارے بکن ہے (۶) زہر و دہر دونوں بالفتح ہیں۔(۷) حدیث شریف میں مؤتمن بروزن معتمد بفتح میم دوم ہی ہے مؤتمن بالکسر امین دارندہ وبالفتح امین داشتہ شدہ یعنی جس سے مشورہ طلب کیا گیا اسے امین بنایا گیا تو خلاف مشورہ دینا خیانت ہے۔ لہذا فقیر کو ان گزارشوں پر جرات ہے کہ یہی حکمِ شریعت و مقتضائے امانت ہے۔(۸) منش اور دولتش میں ضرور اختلافِ حرکت ہے اور عیب ہے۔ کوئی عیب لفظی خواہ معنوی ایسا نہیں جس کی مثال اساتذہ  کے کلام سے نہ دی گئی ہو اس سے نہ وہ جائز ہوتا ہے نہ عیب ہونے سے باہر آتا ہے اور نہ اس میں ان کی تقلید روا ہو۔ ائمہ محققین مثل ابن الہمام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ تصریح فرماتے ہیں کہ ان کا باندھ جانا بے پرواہی پر محمول ہوگا کہ قادر سخن تھے دوسرا باندھے تو جہل و عجز پر محمول ہوگا، میں نے اس مصرعہ کو یوں بدلا ہے۔
وہ یگانہ ہے صفات وذات میں	حکم میں افعال میں ہر بات میں

(اعتراض سوم) کا (و) وہ جواب صحیح ہے جو جناب نے دیا کہ اس کا لحاظ مستحسن ہے ورنہ اکابر کے کلام میں بکثرت موجود
قلوب العارفین لہاعیون	تری ما لا یراہ الناظرونا

واجنحۃ تطیر بغیر ریش	الٰی ملکوت رب العالمینا

والسنۃ بسّر قدتنا جی 	بغیب عن کرام کاتبینا
 (عارفوں کے لیے دل کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتی ہیں جو ہم میں سے دیکھنے والے نہیں دیکھتے۔ اور ان کے بازو ہیں کہ وہ پروں کے بغیر اڑتے ہیں پروردگار  عالم کی بادشاہی میں۔ اور ان کی زبانیں ہیں جو ایسے خفیہ راز کہہ دیتی ہیں جو کراماً کاتبین سے پوشیدہ ہیں ت)
 (۹) مگر عیوب وذنوب اور قلوب و خطوب کے قوافی سے استشہاد صحیح نہیں کہ کلام جمع سالم میں ہے۔ فقیر نے بھی یہ قافیہ نہ بدلاتھا ۔ کہ ضروری نہ تھا بعد اعتراض مرزوقات ہی بنا دینا انسب معلوم ہوا۔

(اعتراض چہارم) وہی دوم ہے والکلام الکلام میں نے یہاں پہلا مصرعہ یوں بدلا ہے،

پاک ہے ہر حاجت و ہر عیب سے	اس کے سب محتاج ہیں چھوٹے بڑے

اس میں ایک مسئلہ کلیہ زائد ہوگیا۔
 (اعتراض پنجم ) (۱۰) یہ بھی ضرور قابلِ اخذ وواجب الترک ہے اور ایسے تصرفات کا ہم کو اختیار نہ دیا گیا نہ وہ کوئی قاعدہ ہے کہ سماع بے سماع ہر جگہ جاری کرسکیں اور ضرورت کا جواب وہی ہے کہ شعر گفتن چہ ضرور۔ حرکت و برکت اور ان کے امثال میں بوجہ توالی حرکات سکون ثانی بے شک عام طور پر مستعمل مگر مرض و عرض و عرض و غرض و حرج و فرس و امثالہا کو اس پر قیاس نہیں کرسکتے۔ میں نے یہاں دو شعروں کو تین سے یوں تبدیل کیا ہے۔

ہے منزّہ جسم سے وہ پاک ذات 	بے مکان و بے زمان و بے جہات

خالق ان کا ان سے پہلے جیسے تھا	ان کے ہونے پر بھی ویسا ہی رہا

جسم و جوہر سے عرض سے پاک ہے 	مادہ سے اور مرض سے پاک ہے

مکان سے تنزیہہ شعر اول میں آگئی(۱۱) پاک صفت ہے اور اس میں ضمیر مستتر ہے، ضمیر مظہر کی ضرورت نہیں جیسے اس شعر میں 

جانتا ہے راز ہائے سینہ کو	دیکھتا ہے دل میں حُب و کینہ کو

(ز) حضرت معترض نے جو تبدیلی فرمائی اس پر جناب کا اعتراض بہت صحیح ہے۔
 (اعتراض ششم) بے شبہہ صحیح ہے جسے جناب نے بھی تسلیم فرمایا مگر (ح) شُبہ صحیح بتانا خود غلط ہے صحیح شبہہ ہے۔(ط) (۱۲) حاضر و ناظر کا اطلاق بھی باری عزوجل پر نہ کیا جائے گا۔ علماء کرام کو اس کے اطلاق میں یہاں تک حاجت ہوئی کہ اس پر سے نفی تکفیر فرمائی ، 

شرح الوہبانیہ ودرمختار میں ہے۔ ویاحاضر یا ناظر لیس یکفر ۔۱؂ یعنی اﷲ عزوجل کو یا حاضر یا ناظر کہنے سے کافر نہ ہوگا۔
 (۱؂    الدرالمختار     کتاب الجہاد       باب المرتد  مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۶۱)
میں نے اس شعر کو یوں بدلاہے۔

ہے وہی ہر چیز کا شاہد بصیر    		کچھ نہیں پوشیدہ تجھ سے اے خبیر

مصرعہ ثانیہ میں التفات ہے کہ نفائس صنعت سے ہے
(اعتراض ہفتم ) وہی ششم ہے مگر (ی)(۱۳) قاضی الحاجات باثبات یا برقرار رکھنا عجب ہے میں نے اسے یوں بدلا ہے۔ع

بالیقین وہ قاضی حاجات ہے (یا)

(۱۴) اس کے پہلے مصرعہ  وہ مجیب عرض اور دعوات ہے میں مجیب عرض ترکیب فارسی ہے لفظ اور سے اس پر عطف ناجائز ہے، اس پر اعتراض کیوں نہ ہوا، میں نے اسے یوں تبدیل کیا ۔

وہ مجیب العرض والدعوات ہے۔(س)

(۱۵) اسی صفحہ کا ۱۱ شعر  بے دلیل و حجت و برہان لیک میں بھی عطف بہ ترکیب فارسی ہیں تو اظہار نون ناجائز اس پر بھی اعتراض نہ ہوا۔ میں نے اسے یوں بدلا ۔

حاجت حجت نہیں ایمان میں لیک (لح)

(۱۶) صفحہ ۷ کے پہلے مصرعہ  خالق خیر اور شراﷲ ہے میں وہی بات ہے کہ ترکیب اور عطف ہندی اور اب وہ سخت معنی فاسد کو موہم کہ  شرکا عطف معاذ  اﷲ خالق خیر پڑھو اور شر اللہ ہے یہ بھی  اعتراض سے رہ گیا میں نے اسے یوں بدلا۔

خالق ہر خیر و شر ا ﷲ ہے
 (اعتراض ہشتم) وہی دوم ہے والکلام الکلام ( بہ) اس میں یوں تبدیل  شرک و کفر و فسق سے نفرت اسے  بہت سخت قبیح واقع ہوئی اگر کروڑوں قافیے تبدیل بلکہ روی رکھتے بلکہ ہر مصرعہ خارج ازوزن ہوتا تو بھی ان کروڑوں کی شناعت اس تبدیلی کی کروڑویں حصہ کو نہ پہنچتی۔ نفرت بھاگنے اور بدکنے کو کہتے ہیں، اللہ عزوجل کی طرف اس کی نسبت حلال نہیں (یہ) (۱۷) نیز اس مصرعہ "ہے وہ راضی طاعت و ایمان سے" میں ترکیب فارسی کے بعد اظہار نون ممنوع تھا۔ اس پر اعتراض نہ ہوا میں نے یہ شعر یوں بدلا ہے۔

طاعت و ایمان سے راضی ہے وہ حیی	شرک و کفر و فسق سے ناراض ہے

(یو) (۱۸) اسی صفحہ میں  "بعض افضل پر ہیں بالضرور " تھا لفظ ضرور ہے یا بالضرور ۃ، بالضرور کوئی چیز نہیں، میں نے اسے یوں بدلا ہے۔ع

بعض افضل بعض سے ہیں پُر ضرور

(اعتراض نہم) (یر) " حق ہے معراج محمد دیں پناہ" صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ فلک اضافت پر اعتراض بیجا ہے فلک لک دو لک جگہ ملے گا۔ یہیں ص ۷ پر اول ان کے حضرت آدم ابوالبشر میں بھی فک تھا وہ کیوں جائز رکھا گیا۔

(یح ) اگر فک نامعقول ہو تو دیں پناہ کو صفت کیوں مانئے بلکہ بحذف مبتدا جملہ مستقلہ مدحیہ ہے یعنی وہ دیں پناہ ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے نظائر خود قرآن عظیم میں ہیں۔(یط) یہ بھی نہ سہی کیوں نہ ٹھہرائیں کہ مخاطب سعید کو ندا ہے یعنی اے دیں پناہ 

(۱۹) یہ جواب کو خفیف اضافت دی جائے صحیح نہیں اب وزن فاعلاتن فاعلن نہیں ہوسکتا فاعلن کی گنجائش تو پہلے ہی نہ تھی  دین پناہ فاعلات ہے اب کسرہ دال یہ تقطیع کردے گافاعلاتن فاعلات مفاعلن ۔
 (اعتراض دہم) صحیح ہے(۲۰) ماشاء اللہ یعنی جو اس طرح پڑھا جائے ۔ ماشال لا ہ کسی قاعدہ کا مقتضی نہیں حذف ہمزہ بے شک جائز و شائع ہے مگر اب الف و لام میں التقائے ساکنین ہو کر الف گر جائے گا اور یوں پڑھا جائے گا۔

ماشّلا میں نے اسے دو طرح بدلا ہے۔ آسمانوں پر"الی ماشا الالہ" یعنی ہمزہ محذوف اور الف شابوجہ التقاساقط ہو کر شین لام سے مل گیا۔ دوم  آسمانوں "لماشاء الا لہٰ"  لام بمعنی الٰی بکثرت شائع اور خود قرآن عظیم میں واقع اور اصلاً کسی تکلف کی حاجت نہیں۔(ی) اس تبدیلی پر جو اعتراض جناب نے کیا وہ صحیح ہے واقعی مفاد اصل و بدل میں زمین و آسمان کا تفاوت ہے، یہ ایک اربعین ہے مع انصاف تام یعنی بیس متعلق بحضرت معترض اور بیس متعلق بجناب و السلام فقیر کی رائے میں دوسری جگہ بھیجنے کی نہ حاجت نہ حصول منفعت کہ بہت تبدیلیں جو درکا رہیں رہ جائیں۔ بعض کہ درکار نہیں عمل میں آئیں بعض کہ خود اشد اعظم تبدیل کے محتاج ہوں ظہور پائیں امید کہ یہاں کی ترمیم کے بعد کوئی غلطی نہ شرعی باقی رہی نہ شعری، ان شاء اللہ تعالٰی جناب کو فقیر نے لکھا تھا کہ اغلاطِ شعریہ سے قطع نظر کروں گا اس کے جواب میں فرمائش جناب پر وہ بھی زیر نظر رکھے گئے میری عظیم بے فرصتی بے حد کثرت کار اور اس پر محض تنہائی اور پھر علالت و نقاہت کا دس مہینے سے دورہ ضرورباعث دیر تاخیر ہوں گے۔ اگر عجلت نہ فرمائیں اور منظور حضرت عزجلالہ ہو تو کام پورا اور تمام نقائص سے مبرا ہوجائے گا۔ آئندہ جو رائے سامی ہو والتسلیم مع التکریم۔
مسئلہ ۲: از مطبع اہلسنت وجماعت بریلی مسئولہ منشی اعجاز احمد صاحب قیصر مراد آبادی کاتب مطبع مذکور 

۵ رجب ۱۳۳۵ھ

اسی پر آپ کو قیصر مسلمانی کا دعوٰی	کبھی یاد خدا کرلیں کبھی ذکر بتاں کرلیں

یہ بحر ہزج سالم ہے یا مزاحف مسبع؟ کریں ، اور کرلیں، میں کیا فرق ہے؟ اور کرلیں، کی فارسی کیاہوگی؟
الجواب : مثمن سالم ہے لین کا نون تقطیع میں حسب قاعدہ نہ آئے گا لہذا مسبع نہیں۔ ہاں ایک مصرع مسبع ہے ۔

اسیرانِ قفس کا دم گھٹا جاتا ہے اے صیاد

فعل کا اثر اپنے لیے حاصل کرنا ہو خواہ دوسرے کے لیے اُسے مطلقاً کرنا کہیں گے اور کرلینا وہاں کہ اپنے لیے تحصیل اثر مقصود ہو اگرچہ اس قدر کہ اس سے فراغ حاصل ہوا میں نے بات کرلی یعنی کرچکا اور کردینا وہاں کہ دوسرے تک وصول اثر مقصود ہو نفع خواہ ضرر، نکاح کرلیا یعنی اپنا اور کردیا یعنی دوسرے سے اور کیا د ونوں کو شامل ہے سراپنا چاک کرلیا اور دوسرے کا کردیا اور کیا عام۔ فارسی میں اس مختصر ترکیب کا ترجمہ نہیں اور یہ فقط کرنے ہی سے خاص نہیں بلکہ ہر فعل میں ہے جیسے کھالو پی لو مگر دو وہیں ہوگا۔ جہاں دوسرے پر اثر پہنچے کھادو نہ کہا جائے گا انار توڑ دو یعنی دوسرے کو اور توڑ لو یعنی اپنے لیے اور اگر دوسرے کے لیے توڑ رہا ہے اس سے کہا انار توڑ لو تو ایک بات نہیں یہاں وہی بمعنی فراغ ہے کہ یہ اثر اپنے لیے ہے فقط۔
Flag Counter